اندور26جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ایک طرف بی جے پی میں اداکاراورمعروف چہرے کی فہرست موجودہے لیکن کانگریس سے اگرکسی اداکارکوٹکٹ دیاجاتاہے توبی جے پی کواعتراض ہے۔اسی طرح سرگرم سیاست میں پرینکا گاندھی واڈرا کی انٹری پر بھی خواتین کی ہمدردی جتانے والی بی جے پی پریشان ہے اورمتنازعہ تبصرے کررہی ہے بی جے پی کے سیکرٹری جنرل کیلاش وجے ورگیہ نے اپنی کانگریسی ہم منصب کی کرینہ کپور اور سلمان خان جیسے فلمی ستاروں سے موازنہ کرتے ہوئے ہفتہ کوکہا کہ کانگریس اچھے چہروں کے بوتے اگلا لوک سبھا انتخابات لڑنا چاہتی ہے۔وجے ورگیہ نے یہاں نامہ نگاروں سے کہاہے کہ کبھی کوئی کانگریسی لیڈر مطالبہ کرتا ہے کہ کرینہ کپور کو بھوپال سے لوک سبھا انتخابات لڑایا جائے، تو کبھی اندور سے انتخابی امیدواری کو لے کر سلمان خان کے نام پربحث کی جاتی ہے۔ اسی طرح پرینکا کو کانگریس کی سرگرم سیاست میں لے آیا جاتا ہے۔انہوں نے کہاہے کہ اگلے لوک سبھاانتخابات کے میدان میں اتارنے کے لیے کانگریس کے پاس مضبوط لیڈر نہیں ہیں۔ اس لیے وہ ایسے چہروں کے ذریعے الیکشن لڑنا چاہتی ہے۔مشرقی اتر پردیش کی انچارج کانگریس جنرل سکریٹری کے طور پر سیاسی دھارے میں پرینکاگاندھی کی انٹری کولے کروجے ورگیہ نے کانگریس صدر راہل گاندھی کی قیادت کی صلاحیت پر بھی سوال اٹھائے۔بی جے پی کے سیکرٹری جنرل نے کہاہے کہ اگر کانگریس میں راہل کی قیادت کے تئیں اعتمادہوتا تو پرینکاگاندھی کو سرگرم سیاست میں نہیں لایاجاتاہے۔وجے ورگیہ نے اپنے آبائی صوبے مدھیہ پردیش کی کمل ناتھ حکومت کو گھیرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ آئندہ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر کسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے زراعت قرض معافی کا ڈرامہ کر رہی ہے۔انہوں نے کہاہے کہ کمل ناتھ حکومت پہلے ہمیں یہ بتائے کہ کیا اس کے خزانے میں 40000کروڑ روپے ہیں جن کے ذریعے وہ کسانوں کا قرض معاف کرنے کی نوٹنکی کر رہی ہے۔وجے ورگیہ نے ایک سوال پرکہاہے کہ اگر کمل ناتھ کے زیرقیادت کانگریس حکومت نے شیوراج سنگھ چوہان کی قیادت والی پیش روبی جے پی حکومت کے کوئی بھی غریب کے خلاف منصوبے کوبند کرنے کی کوشش کی توبی جے پی لیڈر اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔